ابنا: حیدر مصلحی نے جمعہ کے روز ایک خطاب میں نظام کے دشمنوں کے تخریبی منصوبوں اور سازشوں کو ناکام بنانے پر مبنی ایران کی وزارت انٹیلیجنس کی پے در پے کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ، اسرائيل اور برطانیہ کی جاسوس ایجنسیوں نیز فرانس ، جرمنی اور علاقے کے بعض ممالک کی جاسوس ایجنیسوں کا ایران کے خلاف دہشت گردانہ منصوبوں میں کردار رہا ہے لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کی سیکورٹی فورسز کے گزشتہ چند ماہ کے اقدامات سے یہ منصوبے ناکام بنا دئیے گئے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت انٹیلیجنس کے اہلکاروں کی کئي ماہ کی کوشش اور تحقیق کی بدولت حال ہی میں ایران کے ایٹمی سائنس دانوں کے قتل میں ملوث افراد پر مشتمل دو نیٹ ورک تباہ کئے گئے ہیں۔ان نیٹ ورکوں کے اراکین نے یہ انکشاف کیا کہ گزشتہ جنوری میں نوجوان سائنس داں مصطفی احمدی روشن کی شہادت کے بعد اسرائيلی جاسوس ایجنسی موساد نے ان کو بھیڑ بھاڑ والے عوامی مراکز اور زیارت گاہوں پر تخریبی کارروائياں انجام دینے کا اشارہ دیا اور وہ اسی پر کام کررہے تھے ۔گرفتار کئے گئے افراد نے یہ بھی اعتراف کیا کہ تقریبا" ایک عشرے تک ملت ایران کے دشمنوں سے واسبتہ دہشت گردانہ اور جاسوس تنظیموں کی طرف سے ان کو تربیتی اور مالی مدد ملتی رہی ہے۔ایران کے سائنس دانوں کا قتل ایران کے اسلامی جمہوری نظام کو کمزور اور اسلامی انقلاب کی طرف سے لوگوں کو مایوس کرنے کی غرض سے گزشتہ تین عشروں سے زیادہ عرصے میں دشمنوں کی تخریبی کارروائيوں کا صرف ایک نمونہ ہے۔
ملت ایران کے دشمنوں نے مختلف مواقع پر اقتصادی ، علمی و سیاسی میدانوں سمیت تمام میدانوں میں نطام کے اعلی اہداف کی راہ میں مشکلات کھڑی کرنے کے لئے ہر حربے کو استعمال کیا ہے۔سائنس دانوں کا قتل ، سائـبر جنگ اور علاقے میں ایران سے ہراساں کرنے کا پروپیگنڈا شروع کرنا یہ سب انہیں حربوں کا حصہ ہے۔ایران کے وزیر انٹیلیجنس نے کہا کہ دشمنوں نے اسلامی انقلاب کے خلاف وسیع سافٹ وار کی صورت میں سب سے بڑے حملے کا پروگرام بنایا اور اسلامی جمہوری نظام سے مقابلے کے لئے اپنے اہداف کے حصول کی غرض سے مختلف اور پیچیدہ طریقہ ہائے کار کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ایک ایسی جنگ کا منصوبہ بنایا گيا ہے جس میں مختلف میدانوں کو ہدف قراردیا گیا ہے اور امریکہ اور عالمی سامراج نے اس جنگ کے لئے مختلف طریقوں کا انتخاب کیا ہے۔
ان حالات میں ایران کی وزارت انٹیلیجنس ہوشیاری کے ساتھ دشمنوں کی سازشوں سے پردہ اٹھاتی رہی ہے اور دوسری طرف دشمنوں کے جاسوسی کے وسیع حملے سے مقابلے میں وہ پوری طاقت کے ساتھ ڈٹی ہوئي ہے نیز اس نے دشمنوں کی منظم سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا ہے۔مغرب نے اسلامی جمہوریہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لئے ایک حربے کے طور پر ایران کے ایٹمی سائنس دانوں کے قتل کا منصوبہ اختیار کیا ہے۔
ان سازشوں میں جرمنی ، برطانیہ اور فرانس سمیت مغربی ممالک کی جاسوس ایجنسیوں کے کردار سے پردہ اٹھنے سے ، ایسے حالات میں کہ یہ ممالک ایران کے ایٹمی معاملے کے بارے میں ہونے والے مذاکرات میں شامل ہیں ، پتہ چلتا ہے کہ مغربی ممالک مذاکرات کی میز پر بین الاقوامی اصول و قوانین کی رو سے ملت ایران کے بنیادی حقوق کے حصول کی ضرورت پر مبنی اسلامی جمہوریہ ایران کی منطق سے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتے اسی لئے وہ ملت ایران کی استقامت کو ختم کرنے کی غرض سے ہر حربہ استعمال کرنے کی کوشش کرر ہے ہیں اور سائنس دانوں کا قتل اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی ترقی سے نوجوانوں کو ناامید کرنا انہیں حربوں کا حصہ ہے۔....... /169